بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

نشہ خور اسلام  کی نظر میں

نشہ خوری کرنا چونکہ دین و دنیا دونوں کے اعتبار سے تباہ وبربادی کا ذریعہ ہے۔ اسی لئے اسلام نے اس پر پورے طور پر پابندی لگادی ہے۔ نشہ خوری خواہ سگریٹ، گٹکا اور تاڑی کی ہو یا شراب، شمپین،چرس اور بھانگ کے ذریعہ ہو۔ 

ہر ایسی چیز جو نشہ آور ہو یعنی اگر اسے ایک نارمل انسان کھا لے یا پی لےتو اسے نشہ آجاۓ، اسلام نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ 


 حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : ہر نشہ آور چیز خمرہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور اس حالت میں مر گیا کہ وہ شراب کا عادی ہو گیا تھا اور اس نے تو بہ نہیں کی تھی تو وہ آخرت میں اسے نہیں پیے گا ۔  

(صحیح مسلم:2003) 


نبیﷺ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی زیادہ مقدار نشہ لانے والی ہو، اس کا تھوڑا بھی حرام ہے ۔ 

(ابن ماجہ:3394) 

شراب کے دنیاوی اور ظاہری نقصانات بھی ہیں اور آخروی نقصانات بھی۔ 


1) شراب ناپاک اور شیطانی عمل ہے


قرآن کریم میں شراب نوشی کو شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے اورکہا گیا ہے کہ شیطان اس شراب ہی کے ذریعہ دشمنیاں اور عداوت کو پیداکرتاہے اور اللہ کی یاد سے غافل کرتا ہے۔چنانچہ ارشاد ہے:

’’اے ایمان والو!شراب، جوا، بتوں کے تھان اورجوے کے تیر یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، لہذاان سے بچو، تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو، شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی کے بیچ ڈال دے، اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے، اب بتاؤ کیا تم ان چیزوں سے اب بھی باز آجاؤگے؟(اگر اب بھی ان چیزوں سے باز نہ آؤگے تو کب آؤگے؟؟) 

(سورہ المائدہ:91) 


2) شراب پینے سے ، حلق کی خرابی، دمہ، لیور سوجن، کڈنی انفکشن، ٹی بی (Tuberculosis) اور Heart attack جیسی خطرناک بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ 


3) ایک شرابی نہ صرف اپنی لائف برباد کرتا ہے بلکہ اپنے بچوں کی لائف بھی finish کرڈالتا ہے۔ کتنے ہی ایسے غریب اور میڈیم درجے کے کمانے کھانے والے لوگ ہیں جو اپنے خون پسینے کی کمائی کو اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم و تربیت پر خرچ کرنے کے بجائے اپنی شراب نوشی، نشہ خوری اور عیاشی پر خرچ کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگ جب ان کے بچے 12 یا 14 سال کی عمر کو جیسے ہی پہنچتے ہیں ، انہیں ہئیر کٹنگ سلون Hair cutting saloon ، بیوٹی پارلر جیسے حرام اور ناجائز کاموں میں لگا دیا جاتا ہے۔ 

جبکہ سیلون کا پیشہ اختیار کرنا اسلام میں ناجائز اور حرام ہیں۔ کیونکہ اسلام میں ڈاڑھی منڈنا اور منڈانا دونوں ناجائز ہیں۔ اور ناجائز کام کر کے جو پیسے کماۓ جاتے ہیں وہ بھی ناجائز ہیں۔آج کتنے ایسے نوجوان ہیں جو شادی شدہ ہونے کے باوجود بیوٹی پارلر کی بے غیرت لڑکیوں کے دام فریب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اور دوسری طرف بیوی،بچے اور بوڑھے ماں باپ اس کے گھر پہ بے بسی کی زندگی گزار پر مجبور بنے ہوئے ہیں۔ 

 

4)شراب پینے کے بعد نشے کی حالت میں ہی اکثر بیوی بچوں کے ساتھ لڑائی جھگڑے ہواکرتے ہیں۔ اکثر طلاقیں نشے کی ہی حالت میں دی جاتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں نہ صرف ایک انسان بلکہ پورا ایک خاندان تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔ 


5) شراب ہی ساری برائیوں اور خرابیوں کی جڑ ہے۔ 


آج سے تقریباً نصف صدی پہلے ایک جرمن ڈاکٹر نے یہ بات کہی تھی ”تم شراب کی آدھی دکانیں بند کردو، میں تمہیں آدھے ہسپتال، کرائم کے اڈے اور جیلوں کو بند ہونے کی گارنٹی دیتا ہوں۔


اور نبی ﷺ نے بھی فرمایا کہ شراب ام الخبائث یعنی تمام برائیوں کی ماں ہے۔ ساری برائیاں اسی سے جنم لیتی ہیں۔ لوٹ مار، لڑائی جھگڑے، قتل و غارت گری اور زناکاری وبدکاری نشے کی ہی حالت میں انجام دی جاتی ہیں۔ ہمارے ہندوستان میں بھرشٹ نیتاگن الیکشن کے وقت ووٹروں کی خرید وفروخت شراب کی بوتلیں تھما کر ہی کرتے ہیں۔ جو جیتنے کے بعد دیش اور جنتا کو لوٹنے میں ذرا برابر بھی کسر نہیں چھوڑتے۔ 


شراب تمام برائیوں کی جڑہے۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنن نسائی کی ایک روایت ملاحظہ کریں، وہ فرماتے ہیں:

 شراب سے بچو ۔ یہ تمام خرابیوں اور گناہوں کی جڑ ہے ۔ تم سے پہلے لوگوں میں ایک بہت بڑا عبادت گزار شخص تھا ۔ ایک بدکار عورت اس کے پیچھے پڑ گئی ( اور اسے پھانسنا چاہا ) ۔ اس نے اپنی لونڈی کو اس عابد کی طرف بھیجا اور کہا کہ ہم آپ کو ایک گواہی کے سلسلے میں بلانا چاہتے ہیں ۔ وہ عبادت گزار اس لونڈی کے ساتھ چل پڑا ۔ جب وہ کسی دروازے میں داخل ہو جاتا تو وہ پیچھے سے بند کر دیتی ( اور تالا لگا دیتی ) حتی کہ وہ ایک خوبصورت عورت کے پاس پہنچ گیا جس کے پاس ایک لڑکا تھا اور ایک شراب کا مٹکا ۔ وہ عورت کہنے لگی : اللہ کی قسم ! میں نے آپ کو کسی گواہی کے لیے نہیں بلایا بلکہ میں نے تو اس لیے بلایا ہے کہ آپ مجھ سے بدکاری کریں یا یہ شراب پی لیں یا پھر اس لڑکے کو قتل کر دیں ۔ اس عابد نے ( سوچ کر ) کہا : مجھے اس شراب کا ایک گلاس پلا دے ۔ اس نے اسے شراب کا ایک گلاس پلا دیا ۔ وہ ( نشے میں آ کر ) کہنے لگا : مجھے اور پلاؤ ۔ وہ پیتا رہا حتی کہ اس نے اس عورت کے ساتھ بدکاری بھی کر لی اور اس لڑکے کو بھی مار دیا ، لہذا شراب سے بچو ۔ اللہ کی قسم ! شراب پر ہمیشگی و دوام اور ایمان اکٹھے نہیں ہوں گے مگر ان میں سے ایک دوسرے کو نکال دے گا ۔ 

(سنن نسائی:5669) 

یہ حدیث بہترین مثال ہے اس کی کہ شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اگر وہ عبادت گزار زنا کرتا تو صرف زنا کرتا۔ اگر بچے کو قتل کرتا تو صرف ایک قاتل ہی ہوتا ۔ لیکن ان دونوں کے مقابلے میں شراب نوشی کو آسان سمجھ کر اسے اختیار کیا لیکن نتیجہ یہ ہواکہ جب شراب کا نشہ سوار ہوا تو شباب کا بھی شکار کر بیٹھا اور جب اس بچے کی گواہی کا خوف نظر آیا تو اس نے اس بچے کو بھی قتل کر ڈالا۔


6) شراب کی وجہ سے رسول ﷺ نے دس لوگوں پر لعنت کی ہے۔  

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر شراب کی وجہ سے لعنت فرمائی: اس کے بنانے والے پر، بنوانے والے پر، اور اس پر جس کے لیے بنائی جائے، اسے لے جانے والے پر، اس شخص پر جس کے لیے لے جائی جائے، بیچنے والے پر، اور جس کو بیچی جائے، پلانے والے پر اور اس پر جس کو پلائی جائے ، یہاں تک کہ دسوں کو آپ نے گن کر اس طرح بتایا 

(سنن ابن ماجہ:3381)


7) شراب پینے سے چالیس دن تک نماز جیسی عبادت بھی قابل قبول نہیں رہتی ہے۔ 

نبیﷺ نے فرمایا:

 شراب ام الخبائث ہے جو اسے پیتا ہے چالیس دن تک اس کی عبادت قبول نہیں ہوتی اور اگر وہ اس حال میں مرا کہ اس کے پیٹ میں شراب تھی تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔

(صحيح الجامع:3344)


8) چوتھی بار شراب پینے کے بعد تو اس شرابی کے لئے توبہ کی قبولیت کا دروازہ بھی بند ہوجاتا ہے:


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے شراب پی اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا، اگر اس نے دوبارہ شراب پی تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا، اگر اس نے پھر شراب پی تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا، اگر اس نے چوتھی بار بھی شراب پی تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا اور اگر وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ بھی قبول نہیں کرے گا، اور اس کو نہر خبال سے پلائے گا، پوچھا گیا، ابوعبدالرحمٰن! نہر خبال کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جہنمیوں کے پیپ کی ایک نہر ہے۔ سنن (ترمذی:1862) 


9) شراب پینے کی سزا اسلام میں کوڑے لگانا ہے۔ اور اگر چوتھی بار شراب پی لے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔ 

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

’’ جب کوئی شخص نشہ کرے تو اسے کوڑے لگاؤ ، پھر نشہ کرے تو پھر کوڑے لگاؤ ، پھر نشہ کرے تو پھر بھی کوڑے لگاؤ ۔ اگر چوتھی دفعہ نشہ کرے تو اس کی گردن اتار دو ۔‘‘ 

(سنن نسائی:5665) 


10) اس دنیا میں شراب نوشی کرنے والے کے لئے سب سے بڑی محرومی اور بد قسمتی یہ ہوگی کہ وہ آخرت میں جنتی شراب سے محروم رہ جائے گا:

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے دنیا میں شراب پی اور پھر اس نے توبہ نہیں کی تو آخرت میں وہ اس سے محروم رہے گا۔" 

(صحیح بخاری:5575) 


11) شراب پینے کے بعد مرنے والا کفر پر مرنے والا ہے۔ 


حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے فرمایا : 

"جس شخص نے شراب پی لیکن وہ نشے میں مدہوش نہ ہوا تو جب تک وہ شراب ذرہ بھر بھی اس کے پیٹ یا رگوں میں رہے گی تو اس کی نماز قبول نہیں ہو گی ۔ اور اگر وہ اس حال میں مر گیا تو کافر کی موت مرے گا ۔ اور اگر وہ نشے میں بدمست ہو گیا تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہ ہو گی ۔ اور اگر اس دوران میں مر گیا تو کافر کی موت مرے گا۔"

(سنن نسائی:5671) 

یہ ابن عمر سے موقوفا روایت ہے۔ 


اتنے سارے وعیدوں کے بعد بھی اگر شراب پینے والا مسلمان شراب نوشی سے توبہ نہیں کرے گا تو اور کب کرے گا۔

اللہ رب العزت امت مسلمہ کو شراب نوشی کی لعنت سے حفاظت فرماۓ!!!




In the name of God, Most Gracious, Most Merciful. In the eyes of drug addicts Islam. Drug abuse is the destruction of faith in both religion and the world. Similarly, it has been imposed on it by Islam. Addictive cigarettes, gutkas and toddy or alcohol, champagne, marijuana and cannabis. Everything that is intoxicating or eaten by a normal human being or pepto is intoxicated, Islam has declared it haraam. It is narrated on the authority of Hazrat Abdullah Ibn Umar (may Allah be pleased with him) that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: Every intoxicant is intoxicating and every intoxicant is haraam. That he was addicted to alcohol and it was not in his bravery. (Sahih Muslim: 2003) The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: It is haraam for anyone who is addicted to drugs. (Ibn Majah: 3394) Alcohol has both worldly and outward appearances. 1) Alcohol is an unclean and evil act. In the Holy Qur'an, drinking is commanded to be a satanic act and it is said that it is the devil who is the wine and creates hatred and neglects the remembrance of Allah. “O you who believe! And do you remember Allah and are prevented from praying? (Surat al-Ma'ida: 91) 2) Drinking alcohol can cause sore throats, asthma, liver inflammation, kidney infections, tuberculosis and heart attacks. 3) An alcohol not only destroys my life but also the lives of my children. How many poor and middle class eaters reduce their blood and sweat, travel to educate and train their children. When their children reach the age of 12 or 14, they go to hairdressing salons, beauty parlors and other illegal activities. While taking up the profession of salon is illegal and haraam in Islam. Shaving and shaving are both illegal in Islam. And the money they are making by doing illegal things is also illegal. On the other hand, his wife, children and elderly parents live a helpless life in his home. 4) After drinking alcohol, in a state of intoxication, soon there are quarrels with the wife and children. Early divorces take place while intoxicated. In which not only one person but a family is destroyed. 5) Alcohol is the root of all evils and vices. About half a century ago today, a German doctor said that you should close half of the liquor stores, I am closing half of your hospitals, crime and prisons. And the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) also said that alcohol is the mother of all evils. All evils are born from it. Looting, fighting, murder and adultery are committed under the influence of drugs. Voters across India buy and sell bottles of wine while helping Netanyahu. Who later return to the country and the people Alcohol is the root of all evil. See a narration of Sunan An-Nisa'i from Hazrat Uthman bin Affan, may Allah be pleased with him, he says: Avoid alcohol. It is the root of all evil and sin. There was a great request for worship among the people before you. A wicked woman followed him (and he should be hanged). He sent his handmaid to this servant and said, "We want to call you to a testimony." He walks with worship. When he enters a door, it closes (and locks). The woman says: By Allah! You have not called anyone to testify that you commit adultery with him or drink this wine or kill this boy. The devotee said (thinking): Give me a glass of this wine. She gave him a glass. He (intoxicated) to give me more. He drank so much that he committed adultery with her and even killed the boy, avoiding alcohol. By Allah! Eternity and faith in alcohol will remain. I will not give to each other. (Sunan Nisa'i: 5669) This hadith is the best example that alcohol is the root of all evils. If he worships, he only commits adultery. If a child kills, there is only one killer. It is not as easy to drink as it is to drink. 6) The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) cursed ten people because of alcohol. The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said to the people because of the ten kinds of wine: The makers of it

7) Even worship like prayers for forty days after drinking alcohol is not acceptable.

The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said:


 Alcohol is Umm al-Khaba'ith who drinks it. Her worship is not accepted for forty days.


(Sahih Al-Jami ': 3344)


8) After drinking alcohol for the fourth time, the door of acceptance of repentance for this alcoholic is closed:


The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: “Whoever drinks alcohol, Allaah will not accept his prayer for forty days. If he repents, Allaah will accept his repentance. If he drinks alcohol again, Allaah will accept him. He will not accept his prayer for forty days. If he repents, Allah will accept his repentance. If he drinks alcohol again, Allah will not accept his prayer for forty days, if he repents. Then Allah will accept his repentance. If he drinks alcohol for the fourth time, then Allah will not accept his prayer for forty days. And if he repents, He will not accept his repentance. Will drink from, it was asked, Abu Abdul Rahman! What is a canal? He said: There is a canal of pus for the inmates of Hell. Sunan (Tirmidhi: 1862)


9) The punishment for drinking alcohol is flogging in Islam. And if he drinks alcohol for the fourth time, he will be killed.


 The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said:


"When a person is intoxicated, flog him, then if he is intoxicated, then flog him, then if he is intoxicated, flog him again. If he gets drunk for the fourth time, take his neck off. "


(Sunan An-Nisa'i: 5665)


10) The greatest deprivation and misfortune for the drinker in this world will be that he will be deprived of the wine of Paradise in the Hereafter:


The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: "Whoever drinks alcohol in this world and then does not repent, he will be deprived of it in the Hereafter."


(Sahih Bukhari: 5575)

11) The one who dies after drinking alcohol is the one who dies in disbelief.


It is narrated on the authority of Ibn 'Umar that he said:


If a person drinks alcohol but does not become intoxicated, his prayers will not be accepted as long as the alcohol remains in his stomach or veins. And if he dies in this state, then the death of the disbeliever. He will die. And if he becomes intoxicated, his prayers will not be accepted for forty days. And if he dies during that time, the death of the disbeliever will die. "


(Sunan Nisa'i: 5671)


This is a paused narration from Ibn Umar.


Even after so many promises, if a Muslim who drinks alcohol does not repent from drinking, when will he do so?

May God protect the Muslim Ummah from the curse of alcoholism !!!


www.Natiquekizaban.com

Post a Comment