بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

بیعت یزید اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین


یزید بن معاویہ بن ابی سفیان بن حرب بن امیہ الاموی القرشی رضی اللہ عنہما کو جس طرح سب و شتم کیا جاتا ہے ۔ انہیں لعن طعن کیا جاتا ہے اور انہیں خلافت کا نااہل قرار دیا جاتا

ہے۔ کیا واقعی یزید خلافت کے نااہل تھے؟؟؟؟؟؟؟ 

اس کا جواب ہے ہرگز نہیں!!!!!! 

کیونکہ یزید کو خلیفہ بنانے والے خود صحابہ کرام تھے ۔ 

تو کیا صحابہ کرام نے ایک نااہل شخص کو اپنا خلیفہ منتخب کرلیا تھا۔ کیا صحابہ کرام کے تعلق سے یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے خلافت کی باگ ڈور ایک نااہل شخص کے ہاتھ میں سپرد کر دی تھی۔


جبکہ جس صحابی نے یزید کو خلیفہ بنانے کا مشورہ دیا تھا وہ جلیل القدر صحابی حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ جو اصحاب بیعت رضوان میں سے ہیں جن کے متعلق اللہ رب العزت فرماتاہے:

 لَّقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا۔ 

یقینا اللہ ان مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وہ درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے ۔ ان کے دلوں میں جو تھا اس نے معلوم کرلیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح نصیب فرمائی۔ 

(سوره فتح:18) 


عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابی بیعت یزید کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟؟ 


جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر غدر کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا کھڑا کیا جائے گا اور ہم نے اس شخص ( یزید ) کی بیعت، اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے اور میرے علم میں کوئی غدر اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ کسی شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے اور پھر اس سے جنگ کی جائے اور دیکھو مدینہ والو! تم میں سے جو کوئی یزید کی بیعت کو توڑے اور دوسرے کسی سے بیعت کرے تو مجھ میں اور اس میں کوئی تعلق نہیں رہا، میں اس سے الگ ہوں۔

   (صحیح بخاری:7111)

 

 صحیح روایات میں صرف اور صرف دو صحابی کا اختلاف ثابت ہے۔ ایک عبدالرحمن بن ابی بکر اور دوسرے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما۔ 

لیکن ان کا اختلاف بھی یزید کی ذات، شخصیت اور ان کے اخلاق و کردار سے نہیں تھا بلکہ صرف اور صرف باپ کے بعد بیٹے کو خلیفہ بناۓ جانے سے متعلق تھا۔


 جیسا کہ مندرجہ ذیل روایت سے ظاہر ہے:

عبد الرحمان بن ابی بکر کھڑے ہوۓ اور کہا: اے بنو امیہ! آپ ہماری طرف سے پیش کردہ تین طریقوں میں سے کوئی کوئی ایک طریقہ میں منتخب کر لو۔ اللہ کے نبی ﷺ کا طریقے کو اپناؤ یا ابوبکر صدیق رضی اللہ کے طریقے کو اپناؤ یا عمر فاروق رضی اللہ کے طریقے کو اپناؤ۔ یہ معاملہ اللہ کے نبی ﷺ کے سامنے بھی تھا اور آپ کے خاندان میں ایسے لوگ بھی تھے جنہیں اگر اللہ کے نبی ﷺ اپنا ولی عہد (خلیفہ) مقرر کر دیتے تو وہ اس کے اہل تھے۔ اس کے بعد ابو بکر کا دور آیا تو ان کے خاندان میں بھی ایسے لوگ تھے جنہیں ابوبکر صدیق رضی اگر ولی عہد بنادیتے تو وہ اس کے اہل تھے۔ اس کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور ان کے خاندان میں بھی ایسے لوگ تھے کہ اگر وہ انہیں ولی عہد بنا دیتے تو وہ اس کے اہل تھے۔ لیکن انہوں نے یہ معاملہ مسلمانوں کی ایک جماعت پر چھوڑ دیا اور تم لوگ چاہتے ہو کہ اس معاملے کو قیصریت(خاندانی) بنا ڈالو کہ جب ایک قیصر فوت ہو تو اس کی جگہ دوسرا قیصر لے لے۔ 

(تاریخ ابن ابی خیثمہ، واسنادہ صحیح)

اس روایت سے بخوبی معلوم ہوا کہ اس اختلاف کی بنیاد یزید کی شخصیت یا اس کا فاسق یا فاجر ہونا نہیں تھا بلکہ یہ اختلاف اس اندیشے پر مبنی تھا کہ کہیں باپ کے بعد بیٹے کو خلیفہ بنانے سے خلافت ملو کیت میں نہ تبدیل ہو جائے اور ہر خلیفہ کے بعد اس کا بیٹا ہی خلیفہ بننے لگے۔


عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے اختلاف کا سبب بھی یہی تھا نہ کہ یزید کی شخصیت وصلاحیت۔ جیسا کہ خود حضرت حسین رضی اللہ کے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت سے بھی بعض صحابہ کرام نے اختلاف رائے کیا تھا لیکن وہ بھی حضرت علی رضی اللہ کی شخصیت سے اختلاف نہیں بلکہ بعض مصلحتوں کو بنیاد بنا کراختلاف کیا گیا تھا۔ 

اس کے بعد اگلے قسط میں بتائیں گے کہ کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے یزید کی بیعت کیوں لی تھی



In the name of God, Most Gracious, Most Merciful

Allegiance of Yazid and the Companions of Rizwan Alayhim Ajmeen


Yazid ibn Mu'awiyah ibn Abi Sufyan ibn Harb ibn Umayyah al-Umayyah al-Qurashi (may Allah be pleased with him) They are cursed and disqualified from the Khilafah


Is. Was Yazid really incompetent of Khilafah ???????


The answer is absolutely no !!!!!!


Because it was the Companions themselves who made Yazid the caliph.


So did the Companions choose an incompetent person as their caliph? With regard to the Companions, can it be imagined that they had handed over the reins of the Khilafah to an incompetent person?


However, the Companion who advised Yazid to be the Caliph is the Companion of Jalil-ul-Qadr, Hazrat Mughirah bin Shu'bah. Those who are among the companions of Bay'at Rizwan, about whom Allah, the Exalted, says:


Surely Allah is pleased with the believers while they are pledging allegiance to you under the tree. He knew what was in their hearts and gave them satisfaction and gave them a near victory.


(Surat al-Fath: 18)


What do the glorious companions like Abdullah bin Umar say about the pledge of allegiance to Yazid?


When the people of Madinah refused to swear allegiance to Yazid ibn Mu'awiyah, 'Abdullah ibn' Umar gathered his servants and sons and said, "I have heard from the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him)." On the Day of Resurrection a banner will be raised for every treacherous person. We have sworn allegiance to this person (Yazid) in the name of Allah and His Messenger. The person should swear allegiance in the name of Allah and His Messenger and then fight him and look at the people of Madinah! Whoever of you breaks the allegiance of Yazid and swears allegiance to someone else, then there is no connection between me and him, I am separate from him.


   (Sahih Bukhari: 7111)


 Only two companions differed in the authentic traditions. One is Abdul Rahman bin Abi Bakr and the other is Abdullah bin Zubair.


But their disagreement was not with Yazid's caste, personality and his morals and character, but only with the appointment of the son as caliph after the father.


 As is evident from the following narration:


'Abd al-Rahman ibn Abi Bakr stood up and said: O Umayyads! Choose one of the three methods we offer. Adopt the method of the Prophet of Allah or adopt the method of Abu Bakr Siddiq or adopt the method of Umar Farooq. This matter was also before the Prophet of Allah and there were people in his family who would have been eligible if the Prophet of Allah had appointed him as his Crown Prince (Caliph). Then came the time of Abu Bakr. There were also people in his family who would have been eligible if Abu Bakr Siddiq had made him the crown prince. Then came the time of Umar Farooq (RA) and there were people in his family who would have been eligible if he had been made the Crown Prince. But they left the matter to a group of Muslims and you people want to make this matter a Qaisariyat (family) so that when one Qaiser dies, another Qaiser will take his place.


(History of Ibn Abi Khaythama, authentic document)


It is clear from this narration that the basis of this disagreement was not Yazid's personality or his immorality or immorality, but this fear was based on the fear that making the son the caliph after the father would not turn the caliphate into a caliphate. After each caliph, his son became the caliph.


This was the reason for Abdullah bin Zubair's disagreement and not Yazid's personality and ability. Just as some of the Companions had disagreed with the caliphate of Hazrat Ali (RA), the father of Hazrat Hussain (RA) himself, but they too did not disagree with the personality of Hazrat Ali (RA) but disagreed on the basis of certain interests.


Then in the next episode we will explain why the Companions took the oath of allegiance to Yazid.

www.darsequran a.com

www.natiquekizaban.com


Post a Comment