دنیا کی سب سے خوش نصیب،خوش قسمت عورت حضرتخدیجہ رضی اللہ عنھا 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بے شمار مردوعورت کو پیدا فر ما یا ۔ان میں بہت سے مردوعورت کو کامیابی سے سرفراز فرمایا،اور ان کامیاب لوگوں میں بھی بعض مردوعورت کو ایسی کامیابی عطا کی کہ دنیا میں ان کا نام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ وجادید کر دیا۔

ان ہی کامیاب لوگوں میں سے ایک نام حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنھا کا ہے ۔رب ذو الجلال نے انہیں بےپناہ حصوصیات سے نوازا تھا

آپ کا نام نامی خدیجہ بنت خویلد آپ کی کنت ام ہند،اور لقب طاہرہ ہے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کے والد اپنے قبیلہ میں نہایت معزز شخص تھے

والد نے آپ کی شادی کےلئے ورقہ بن نوفل کوجو تورات وانجیل کے بہت بڑے عالم تھے منتخب کیا ،مگر کسی وجہ سے یہ رشتہ نہ ہو سکا۔پھر آپ کا نکاح ابو ہالہ ہند بن بناش بن تمیم سے ہوا۔ابو ہالہ کے بعد عتیق بن عابد مخزوم کے نکاہ میں آئیں ۔چند سالوں بعد آپ پھر سے بیوہ ہو گئیں

والد اور شوہر کے انتقال کے بعد آپ کو بہت ساری تکالیف اٹھا نی پڑی ۔آپ کا ذریعہ معاش تجارت تھا جس کا کوئی نگراں نہ تھا ،تاہم اپنے اعزہ واقربا کو مال تجارت دیکر بھیجتی تھیں۔

اسی زمانے میں آقائے مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی شہرت امین کے لقب سے بہت مشہور ہو چکی تھی۔آپ کے حسن معاملات ،راست بازی ،صدق ودیانت ،اور پاکیزہ اخلاق کا چرچا بھی عام تھا ۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کو بھی ان باتوں کی خبر پہونچتی رہتی تھی حضرت خدیجہ نے آپ کو آزمانے کا ارادہ کر لیا اور آپ ﷺ کو خبر بھیجا کہ آپ میرا مال تجارت لیکر ملک شام جائیں جو معاوضہ دوسرے کو دیتی ہوں اس سے بڑھا کر آپ کو عطا کروں گی ۔اور آپﷺ کے ساتھ اپنا ایک غلام بھی ساتھ کر دیا کہ آپ ﷺ کو زیادہ پریشانی نہ ہو ۔ملک شام سے دو گنے منافع کے ساتھ  آپ ﷺ لوٹے ۔واپسی کے بعد میسرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کر تے ہو ئے نہ تھکتا تھا۔ہر وقت آپ ﷺ کی تعریف میں لگا رہتا تھا ۔

حضرت خدیجہ کی دولت اور شریفانہ مزاج نے تمام قریش کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا ہر شخص آن سے نکاح کرنا چاہتا تھا لیکن قدرت  الٰہی کی نگاہ کسی اور پر پڑ چکی تھی ۔ملک شام سے واپسی کے بعد حضرت خدیجہ نے نفیسہ بنت میمنہ (یعلی بن امیہ کی ہمشیرہ)کے معرفت نکاح کا پیؑام بنی پاک ﷺ کے پاس بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیؑام کو قبول فر ما لیا۔تاریخ معینہ پر ابو طالب اور تمام رؤ سائے خاندان حضرت خدیجہ کے مکان پرحاضر ہوئے ۔ابو طالب نے خطبہ نکاح پڑھایا اور عمرو بن اسد کے  مشورے سے پانچ سو درہم مہر مقرر ہوا ،اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا حرم نبوت ہو کر ام المومنین کے شرف سے ممتاز ہو ئیں اس وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  کی عمر چالیس سال اور بنی پاک ﷺ کی عمر مبارک پچیس سال تھی اور یہ واقعہ بعثت سے پنرہ سال قبل کا ہے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولادحضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا سے ہوئی سوائے حضرت ابراہیم کے،حضرت ابراہیم ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا اس امت کی سب سے بہترین خاتون تھیں۔حدیث شریف کے اندر ہےکہ حضرت مریم اپنے زمانے کی بہترین خاتون تھی

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ :  خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ  .



 میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ مریم بنت عمران ( اپنے زمانہ میں ) سب سے بہترین خاتون تھیں اور اس امت کی سب سے بہترین خاتون خدیجہ ہیں ( رضی اللہ عنہا ) ۔ 

صحیح بخاری ۳۴۳۲

ایک حدیث میں حضرت عائشہ ان کی فضیلت اس طرح نبان کرتی ہیں۔ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ :  مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا وَأَمَرَهُ اللَّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ ، وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ فَيُهْدِي فِي خَلَائِلِهَا مِنْهَا مَا يَسَعُهُنَّ  .



 ہشام نے میرے پاس اپنے والد ( عروہ ) سے لکھ کر بھیجا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی کے معاملہ میں، میں نے اتنی غیرت نہیں محسوس کی جتنی غیرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے معاملہ میں محسوس کرتی تھی وہ میرے نکاح سے پہلے ہی وفات پا چکی تھیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے میں ان کا ذکر سنتی رہتی تھی۔ اور اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا تھا کہ انہیں ( جنت میں ) موتی کے محل کی خوشخبری سنا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کبھی بکری ذبح کرتے تو ان سے میل محبت رکھنے والی خواتین کو اس میں سے اتنا ہدیہ بھیجتے جو ان کے لیے کافی ہو جاتا۔ 3816صحیح بخاری

حضرت خدیجہ رضی اللہ عبھا کو خود اللہ رب العزت بھی سلام بھیجتے تھےحدیث شریف ملاحظہ فر مائہں۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ :  أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ :  يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ , فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي , وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ  .



 جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ! خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس ایک برتن لیے آ رہی ہیں جس میں سالن یا ( فرمایا ) کھانا یا ( فرمایا ) پینے کی چیز ہے جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے رب کی جانب سے انہیں سلام پہنچا دیجئیے گا اور میری طرف سے بھی! اور انہیں جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دے دیجئیے گا جہاں نہ شور و ہنگامہ ہو گا اور نہ تکلیف و تھکن ہو گی۔صحیح بخاری 3820 

حضرت اماں عائشہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں مجھے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں آتا جتنا حضرت خدیجہ پر آتا ہے

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ :  مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ ، وَلَقَدْ هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي بِثَلَاثِ سِنِينَ لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا ، وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ ثُمَّ يُهْدِي فِي خُلَّتِهَا مِنْهَا  .



 مجھے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں آتا تھا جتنا خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتا تھا حالانکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے شادی سے تین سال پہلے وفات پا چکی تھیں۔ ( رشک کی وجہ یہ تھی ) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں کثرت سے ان کا ذکر کرتے سنتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے رب نے حکم دیا تھا کہ خدیجہ کو جنت میں ایک خولدار موتیوں کے گھر کی خوشخبری سنا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بکری ذبح کرتے پھر اس میں سے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو حصہ بھیجتے تھے۔ صحیح بخاری6004

خود اللہ کے نبی ﷺ نے دنیا کی چند عورتوں کا نام لیکر فضیلت کا ذکر کیا ہے ملاحظہ فرمائیں

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ محمَّد وآسية امْرَأَة فِرْعَوْن» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ


حضرت انس  ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جہان کی خواتین میں سے (کمال کے اعتبار سے) مریم بنت عمران ، خدیجہ بنت خویلد ، فاطمہ بنت محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) اور آسیہ زوجہ فرعون  ؓ تمہارے لیے کافی ہیں ۔‘‘ ، رواہ الترمذی ۔6190

ٓآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  کی موجودگی میں کوئی شادی نہیں کی حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَمْ يَتَزَوَّجِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَدِيجَةَ حَتَّى مَاتَتْ»


 عروہ نے حضرت عرضی اللہ تعالیٰ عنہا  سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کی وفات تک اور شادی نہیں کی ۔ صحیح بخاری6281


The most fortunate, lucky woman in the world, Hazrat Khadija

In the name of God, Most Gracious, Most Merciful

Allah Almighty has created many men and women in the world. He has exalted many men and women among them successfully, and even among these successful people He has given such success to some men and women that their name will live on in the world forever.


One of these successful people is Hazrat Khadija Al-Kubra (RA).


Her name is Khadija bint Khuwail, her name is Kant Umm Hind, and her title is Tahira. Hazrat Khadija's father was a very respected person in his tribe


Your father chose Warqa ibn Nawfal, a great scholar of the Torah and the Gospel, for your marriage, but for some reason this relationship did not work out. Then he married Abu Hala Hind ibn Banash ibn Tamim. After Abu Hala, Atiq She got married to Bin Abid Makhzoom. A few years later, she became a widow again

After the death of her father and husband, she had to suffer a lot.


At that time, the fame of Aqa Madani (peace be upon him) had become very famous with the title of Amin. Hazrat Khadijah intended to test you and sent word to you that you should take my goods and trade and go to Syria. I will give you more than the compensation I give to others. He also promised that he would not have much trouble. He returned from Syria with double the profit. After his return, Masra did not get tired of praising the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him). Used to praise

Hazrat Khadija's wealth and noble temperament had made all the Quraysh her captives. Everyone wanted to marry her but the eyes of Divine Divine had fallen on someone else. After returning from Syria The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) accepted the message of marriage through the sister of Ibn Umayyah. The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) accepted this message. He delivered the marriage sermon and with the advice of Amr ibn Asad, a dowry of five hundred dirhams was fixed. It was 25 years ago and this incident took place fifteen years before the resurrection


All the children of the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) were born from Hazrat Khadija (ra) except Hazrat Ibraaheem (ra).


Hazrat Khadija (RA) was the best woman of this ummah. It is in the hadith that Hazrat Maryam was the best woman of her time.


Hadith Ahmad ibn Raja ', Hadith alnzr, al-Hisham, said: أkbrny Abbey, said: smat Abdullah bin Jaafar, said: smat sublime may Allah be pleased with him, yqul: smat Prophet Muhammad, yqul: I nsayهa Mary bias Imran ukyr .


 I heard the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) say that Maryam bint Imran (in her time) was the best woman and the best woman of this ummah is Khadijah (may Allaah be pleased with her).


Sahih Bukhari


In a hadith, Hazrat Ayesha describes his virtue in this way. Hadith Saeed Bin immense, Hadith Laith, said: books shelf Hisham, al أbyه, al aaysة may Allah anهa, qalt: Ma grt Ali emarat llnby Prophet Ma grt Ali kdyjة هlكt ago ytzujny Lima Knut أsmaه yzكrهa uأmrه God in ybsrهa.


 Hisham wrote to me from his father (Urwah) that Ayesha (may Allah be pleased with her) said: In the case of any wife of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), I did not feel as much pride as I did in the case of Khadijah (may Allah be pleased with her). She used to die before my marriage, but I used to listen to her through the tongue of the Holy Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him). And Allaah had commanded the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) to give them the glad tidings of a pearl palace (in Paradise). If the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) ever slaughtered a goat, he would send as many gifts from it to women who loved him as would be enough for him. 3816 Sahih Bukhari

Hazrat Khadijah (RA) used to send greetings to Abha herself. See also Hadith Sharif.


Hadith qtybة bin Saeed, Hadith Mohammad bin Fudayl, al-building, narrated from Abu agriculture, narrated from Abu هryrة may Allah be pleased with him, said:'ll Gabriel Prophet Muhammad, fqal Messenger of Allah هzه kdyjة height finally maهa Unnao fyه Adamah come eat come Wine, if you are poor, peace be upon you.


 Gabriel (peace be upon him) came to the Messenger of Allah (peace be upon him) and said: O Messenger of Allah! Khadijah (may Allah be pleased with her) is coming to you with a vessel in which there is curry or (said) food or (said) drink. When they come to you, greet them from their Lord and to me. Even more! And he will give them the good news of a palace of pearls in heaven, where there will be no noise, no distress, no fatigue.


Hazrat Ayesha (may Allah be pleased with her) says: I am not as jealous of any woman as I am of Hazrat Khadija.

Hadith Ubaid bin Ismail, Hadith Abu أsamة, al-Hisham, al أbyه, al aaysة may Allah anهa, qalt: Ma grt Ali emarat Ma grt Ali kdyjة, brings هlكt ago ytzujny bslas sunayani Lima Knut أsmaه yzكrهa, brings أmrه rbه their ybsrهa Babita In Paradise from Qasb, and if the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) was praying to Allah and peace be upon him, then he would be guided in it.


 I was not as jealous of any woman as I was of Khadijah, even though she had died three years before the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) married me. (The reason for jealousy was) that I used to hear the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) mentioning them frequently, and the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) was commanded by his Lord to send Khadijah to a house of pearls in Paradise. Give the good news. The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) used to slaughter a goat and then send a portion of it to Khadijah's companions. Sahih Bukhari 6004


The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) himself mentioned the virtues of some of the women of the world.


Anas al-Nabi, the Prophet said: "The women of the Worlds hsbك Maryam bint Mohammad Imran ukdyjة Texture Texture Khuwaylid ufatmة uasyة emarat Pharaoh».


It is narrated on the authority of Hazrat Anas that the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: Pharaoh is enough for you. ”Narrated by al-Tirmidhi


You upon migrated Khadija presence of any Hadith to marry Abdul Hamid, أkbrna Abdul Razzaq, أkbrna Libya, al alzهry, al aruة, al aaysة, qalt «Lim ytzuj Nabi Muhammad Ali kdyjة until she died A


 Arwa narrated from Hazrat Arzi Allahu ta'ala anha, saying: The Prophet (peace and blessings of Allaah

be upon him) did not remarry until the death of Hazrat Khadijah. Sahih Bukhari 6281

www.natiquekizaban.com

www.darsequran a.com


Post a Comment