بسم اللہ الرحمن الرحیم 

دین اسلام ایک فطری دین ہےاور مظہر انسانیت ہے جس کی تعلیمات کے مطابق بنیادی حقوق کے لحاظ سے تمام انسان برابر ہیں ہر بچہ فطرت اسلام پر ہی پیدا ہوتا ہے اور تمام انسان آدم کے اولاد ہیں اس لحاظ سے اسلام میں جنس کی بنیاد پر عورت مرد کی کوئی تفریق نہیں اللہ کے نزدیک دونوں ہی اس کی مخلوق ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ (ترجمہ)اے لوگو!اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک ہی جان سے پیدا کیا اور اسکی جنس سے اس کا جوڑا پیدا کیااور ان دونوں سے بہت سارے مرد اور عورتیں پھیلادیں(النساء 1-4)

اسلام میں عمل اور اجر کے اعتبار سے مرد وعورت مساوی ہیں چنانچہ قرآن پاک میں واضح کردیا گیا کہ (ترجمہ) ’’مردوں کو اپنی کمائی کا حصہ ہے اور عورتوں کو اپنی کمائی کا حصہ ہے اور (دونوں)اللہ سے اس کا فضل مانگو‘‘(سورۃ النساء32)مزید فرمایا (ترجمہ) اور جو کوئی نیک عمل کرے گا،وہ مرد ہو یا عورت بشرط وہ مومن ہوتو ایسے لوگ جنت میں داخل ہونگے اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہ ہوگی‘‘ (النساء 124) قرآن پاک کے علاوہ کئی احادیث رسولؐ میں بھی عورتوں کے حقوق، فرائض اور ان کی معاشرے میں اہمیت کا ذکر موجود ہے خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں عورت کے وجود کو دنیا میں محبوب قرار دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’  تمہاری دنیا کی چیزوں میں سے خوشبو اور عورتیں محبوب بنائی گئی ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے‘‘(الحدیث)’’عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو‘‘(الحدیث)دوسری حدیث میں فرمایا ’’جس شخص نے 3لڑکیوں کی پرورش کی پھر ان کو ادب سکھایا اور ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے‘‘ (ابوداؤد) الغرض قرآن وحدیث میں کثیر تعداد میں ایسے احکامات  موجود ہیں جس سے اسلام میں عورت کے مقام ،اہمیت اور اس کے حقوق کا تعین ہوتا ہے اسلام واحد دین ہے جس نے عورت کو ذلت وپستی سے نکال کر اسے  انسانیت کا مقام بخشا جبکہ اسلام سے پہلے دیگر مذاہب میں عورت کو ذلت، رسوائی وتحقیر کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ہندو مت میں خاوند کی موت کے ساتھ عورت کو بھی ستی کردیا جاتا تھا یعنی اسے بھی زندہ جلادیا جاتا تھا جبکہ عرب معاشرے میں اسلام سے پہلے دور جاہلیت میں لڑکی پیدا ہونے پر اسے زندہ درگورکردیا جاتا تھا قرآن پاک کے اندر اس بہیمانہ ظلم کا ذکر موجود ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (ترجمہ)جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خبر دی جاتی تواس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ غم سے گھلنے لگتا ہے اس بُری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چُھپا چُھپا پھرتا ہے سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت کے ساتھ لئے  ہی رہے یا اسے مٹی میں دبادے آہ ! کیا ہی برا فیصلہ کرتے ہیں‘‘(سورۃ الخل58)حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس دور جاہلیت کے معاشرے کی گواہی دیتے ہیں کہ ’’قسم بخدا ہم دور جاہلیت میں عورتوں کو کوئی حیثیت ہی نہیں دیتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اپنی ہدایت نازل کی اور ان کے لیے جو کچھ حصہ مقرر کرنا تھا مقرر کیا‘‘(صحیح مسلم شریف)اسلام نے اُس ذلت اور رسوائی سے عورت کو نجات دلائی اور اسے زندہ رہنے کا حق دیا بلکہ زندہ درگور کرنے والوں کو آگاہ کیا کہ اس جرم کا ضرور ان سے سوال ہوگا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ’’(ترجمہ)جب کہ زندہ درگور لڑکی کے بارے میں پوچھا جائیگا کہ کس گناہ میں وہ ماری گئی‘‘(سورۃ التکویر9-8)اسلام نے معاشرے میں عورت کے حقوق، فرائض ودیگر مسائل کے لیے سورۃ النساء میں تفصیلی احکامات دیئے ہیں جس میں نکاح،طلاق، خلع، وراثت ودیگر صنفی مسائل میں رہنمائی کی گئی ہے عورت کی عزت عصمت کی حفاظت کے لئے حجاب(پردہ)کا حکم دیا گیا ہے تاکہ معاشرے میں پاکیزگی واخلاقی اقدار برقراررہیں چنانچہ قرآن پاک میں واضح کہا گیا ہے کہ (ترجمہ)’’مومن عورتوں سے کہہ دو کہ ان کی آنکھوں میں حیا ہو اور اپنی شرم گاہوں کی پردہ پوشی کریں اور اپنا بناؤ سنگھار ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھینوں کے آنچل ڈالے رہیں‘‘(سورۃ النور)پردے کا مقصد عورت کو معاشرتی وخاندانی نظام سے الگ رکھنا نہیں بلکہ  سورۃ النور میں بیان کردہ احتیاطی تدابیر کے اعتبار سے عورت خاندانی، معاشرتی نظام واجتماعیت میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے ہمارا دین اس ضمن میں کسی انتہا پسندی کی تعلیم نہیں دیتا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’دین آسان ہے لوگو کے لیے آسانی پیدا کرو لوگوکو مشکلات میں مت ڈالو‘‘(صحیح بخاری)مغرب میں آزادی نسواں ومساوات مرد وزن کے نعرے کے تحت عورتوں کے حقوق کی جو تحریک ہے اس میں حقوق وفرائض سے زیادہ اسلام کے قوانین وتعلیمات کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے پردہ، طلاق، تعدادازواج ،عورت کی گواہی اور وراثت میں نصف حصہ اور ہر سطح پر مساوی آزادی کا مطالبہ کرکے یہ پروپگنڈا کیا جاتا ہے کہ پردہ عورت کو قید کرنے کے مترادف ہے اور 4 شادیاں ووراثت وگواہی میں نصف حصے سے عورت کے حقوق متاثر ہوتے ہیں اور اس طرح عورتوں کا استیصال ہورہا ہے جبکہ اسلام پر محض یہ الزام ہے اسلامی تعلیمات میں اس ضمن میں جو ہدایات ہیں وہ انصاف وتوازن برقرار رکھنے اور معاشرے میں اخلاقی اقدار وخاندانی نظام کے استحکام کے لیے ضروری ہیں بعض قوانین ناگزیر صورت میں استثنائی ہیں جو ہنگامی ووقتی پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے ہیں ان تمام قوانین میں اسلام نے ہر صورت میں انصاف وتوازن کو برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے عورتوں کے مسائل سے متعلق کوئی بھی قانون ہو اس کی تشریح وتعبیر میں ہمیشہ انصاف وتوازن ومعاشرتی مفاد مقدم ہوگا لہٰذا اگر تعصب کو بالائے طاق رکھ کر اسلام میں دیے گئے عورتوں کے حقوق وفرائض کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو بظاہرامتیازی نظر آنے والے قوانین امتیازی نہیں بلکہ خود عورت کی عزت وعصمت کے محافظ اور معاشرے میں اخلاقی وخاندانی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں  مذکورہ بالا قرآن وحدیث کی روشنی میں ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ عورت تحفظ، عزت وعظمت کی چیز ہے ۔

In the name of God, Most Gracious, Most Merciful

Islam is a natural religion and a manifestation of humanity according to which all human beings are equal in terms of basic rights. Every child is born on the nature of Islam and all human beings are descendants of Adam. In the sight of Allah, both are His creatures, so Allah says: O people! Fear your Lord Who created you from a single soul and created its mate of its kind and its offspring. Spread many men and women from both (Nisa 1-4)

In Islam, men and women are equal in terms of deeds and rewards, so the Qur'an makes it clear that (men) have a share of their earnings and women have a share of their earnings and (both) ask Allah for His bounty. (Surat an-Nisa ': 32) He added: "And whoever does good deeds, whether male or female, provided he is a believer, such people will enter Paradise, and they will not be deprived of their rights." Apart from Pak, many hadiths of the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) also mention the rights, duties and importance of women in society. Khatam-un-Naba'een He said, "Fragrance and women have been made beloved among the things of your world and the coolness of my eyes has been kept in prayer." (Hadith) "Fear Allah in the matter of women" (Hadith) said in another hadith. “Whoever raises 3 girls and then teaches them literature and marries them and treats them well, for him is Paradise.” (Abu Dawud) Purpose There are a number of such injunctions in the Qur'an and Hadith. Islam determines the status, importance and rights of women in Islam. Islam is the only religion that has taken woman out of humiliation and humiliation and given her the status of humanity. Was considered. In Hinduism, a woman was satiated with the death of her husband, that is, she was also burnt alive, while in Arab society, before Islam, when a girl was born in the pre-Islamic era, she was buried alive. Mention of this senseless cruelty in the Qur'an There is one in which Allaah says (interpretation of the meaning): “When one of them is informed of a girl, his face becomes black and he begins to mingle with grief. He hides from the people because of this bad news and thinks. Whether to keep it with humiliation or to bury it in the dust ah! What a bad decision they make ”(Surat al-Khalil 58) Hazrat Umar Farooq (may Allah be pleased with him) testifies to the society of the pre-Islamic era:“ By God, we did not give any status to women in the pre-Islamic era until Allah Almighty He revealed His guidance to them and ordained for them a portion of what was due. ”(Sahih Muslim) Islam saved the woman from that humiliation and disgrace and gave her the right to live, Allah Almighty said that they will be questioned about this crime. Allah (swt) said: “When the living buried girl will be asked about the sin for which she was killed” (Surat al-Takwir, 9-8). I have given detailed instructions in Surah An-Nisa 'for women's rights, duties and other issues in which guidance has been given in marriage, divorce, khula, inheritance and other gender issues. Hijab (veil) has been ordered to protect women's honor In order to maintain chastity and moral values ​​in the society, it is clearly stated in the Holy Qur'an that (translation) “Tell the believing women to be modest in their eyes and to cover their private parts and their Do not show off your adornment except for those who show themselves and keep the heels of their veils on their breasts. ”(Surat al-Noor) A woman can play her role in family, social system and community. Our religion does not teach any extremism in this regard. The Holy Prophet (PBUH) said, "Religion is easy. Make it easy for people. Don't put people in trouble." (Sahih Bukhari) The movement for women's rights in the West under the slogan of women's freedom and equality under the weight of men has targeted the laws and teachings of Islam more than rights and duties. By demanding half and equal freedom at all levels, it is propagated that the veil is tantamount to imprisoning a woman and that half of the rights in 4 marriages, inheritance and testimony affect women's rights and thus exploit women. This is the only accusation against Islam. The guidelines in Islamic teachings in this regard are justice and balance Essential for maintaining and strengthening moral values ​​and family system in society. Some laws are inevitably exceptional in order to resolve emergencies. In all these laws, Islam instructs to maintain justice and balance in all cases. Whatever the law on women's issues, justice, balance and social interest will always take precedence in its interpretation. Therefore, if the rights and duties of women given in Islam are examined in depth, leaving aside prejudice, Laws are not discriminatory but are the guardians of the dignity of women themselves and are essential for maintaining the moral and family system in the society. In the light of the above mentioned Qur'an and Hadith, we come to the conclusion that woman is a thing of protection, honor and dignity.



Post a Comment