بسم اللہمن الرحیم                                                       

 رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً ۚ اِنَّکَ سَمِیۡعُ الدُّعَآءِ                                

(ال عمران: 39)                                                                                                          

اے میرے رب! مجھے اپنے عطائے خاص سے پاکیزہ اولاد عطافرمادیجئے ۔ یقیناً آپ دعاؤں کو سننے والا ہے۔

اللہ تعالٰی نے ہمیں اولاد مانگنے کا یہ احسن طریقہ سکھایا ہے اور جب اولاد ہو جائے تو 

 اولاد کو نیکی اور تقویٰ پر قائم رکھنے کے لئے یہ دُعا سکھلائی:

 رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰہُ وَ اَصۡلِحۡ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡ ۚؕ اِنِّیۡ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اِنِّیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ

(الاحقاف:16)

اے میرے رب! مجھے توفیق عطا فرمائے کہ میں تیری آپ کی نعمت کا شکریہ ادا کرسکوں جو آپ نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی اور ایسے نیک اعمال بجا لاؤں جن سے آپ راضی ہو جائیں اور میرے لئے میری ذریت کی بھی اصلاح کردیجئے ۔ یقیناً میں تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں اور بلاشبہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔

آقائے مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بچے کی پیدائش ہو تو  دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہو ۔ جس سے ’’اُم الصبیان‘‘ (اس میں بچوں کو سوکھے کا مرض لاحق ہوجاتاہے اور بچہ کمزور ہوتا چلا جاتا ہے. عموماً تشنج کا دورہ پڑتا ہے۔) کی بیماری نہیں ہوتی۔

(الجامع الصغیر)

اس طرح ہم اپنے بچے کی روز اول سے صحیح تربیت کر سکتے ہیں 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے متعلق فرمایا: اَلْاَ ذَانُ یَتَرَدَّدُ الشَّیْطٰنُ (بخاری) کہ اذان شیطان کو دھتکار تی ہے ۔

اس کے بعد تحنیک کی جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو بچہ پیدا ہو تا اس آپ صلی اللہ علیہ خود تحنیک فرماتے تاکہ بچے پر نیک اور اچھا اثر پڑے 

پھر سات دن کا ہونے پر لڑکے کی جانب سے دو اور لڑکی کی طرف سے ایک بکرے کی قربانی کا ارشاد ہے۔ اگر لڑکا پیدا ہو تو اس کا ختنہ بھی کرایا جائے۔

(زادالمعاد)

جب بچہ سات سال کا ہوجائے تو اسے نماز پڑھنے کی ترغیب دینی چاہیں۔ اس سے پہلے بچے کو نماز کے الفاظ اور دُعائیں یاد کروادینی چاہئے اور جب بڑا ہوجائے اور باہر چلنے پھرنے کے قابل ہوجائے تو پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اسے فحش و منکرچیزوں سے بچانے کی ہدایت دی ہے 

(ابوداؤد)کی ایک حدیث میں ہے 

کہ جب بچہ سات سال کا ہوجائے تو اُسے نماز کا حکم دو اگر تین سال کی کوشش کے بعد بھی نماز نہ پڑھے تو اس کو سرزنش کی جائے اور دس سال کی عمر میں اس کو علیحدہ سلائیں اور جب بڑا ہوجائے تو اس کو گھر میں اجازت لے کر داخل ہونا چاہیے۔

پھr فرمایا کہ جب تمہاری اولاد بولنے لگے تو اُسے لا الہ الا اللّٰہ سکھا دو …… اور جب دودھ کے دانت گر جائیں تو نماز کا حکم دیں۔

(زاد المعاد)

آنحضورﷺ عورتوں سے بیعت لیتے وقت یہ عہد بھی لیتے کہ وہ اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو روحانی طور پر قتل نہیں کریں گی اور ان کی احسن طریق سے تربیت کریں گی اور ان کے اخلاق و عادات کو اسلامی شعائر کے مطابق ڈھالیں گی۔

حتی کہ حضورؐ نے ماؤں کو ایسی حالت میں روزے رکھنے سے منع فرمایا جب وہ بچوں کو دودھ پلا رہی ہوں یا حاملہ ہوں تا ان کی صحت قائم رہے اور کوئی بُرا اثر بچے کی صحت پر نہ پڑے۔

آنحضورﷺ نے طلاق و خلع کو ناپسند فرمایا اور اِسے اَبْغَضُ الْحَلَالِ قرار دیا۔ کیونکہ طلاق یا خلع سے بچے جہاں بٹ جاتے ہیں وہاں ان کی تربیت پر بھی بہت بُرا اثر پڑتا ہے۔

آنحضورﷺ نے قوم کے نئےپھولوں اور کلیوں کی تربیت کے لئے والدین کو ہدایت فرمائی کہ

بیٹے کا حق اس کے باپ کے ذمے یہ ہے کہ وہ اس کا اچھا نام رکھیں، اس کا عمدہ ٹھکانہ بنائے اور پسندیدہ آداب سکھلائے۔

فرمایا : اپنے بچوں کو ادب سکھاؤ کیونکہ تمہارا یہ فعل روزانہ ایک صاع صدقہ کے برابر ہے۔

نیز ترمذی کی روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا مِنْ نَحْلٍ اَفْضَلَ مِنْ اَدَبٍ حَسَنٍ یعنی باپ اپنے بیٹے کو نیک آداب سکھانے سے بہتر کوئی چیز نہیں دیتا۔

والدین کو ہی بچوں کی تربیت کے ذمہ دار قرار دیتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ 

(بخاری کتاب الجنائز)کی حدیث ہے

کہ ہر بچہ فطرت اسلام (فطرت صحیحہ) پر پیدا ہوتا ہے مگر اس کے والدین ہی اُسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنادیتے ہیں یعنی بچہ والدین کے نمونہ کو اخذ کرتا ہے ۔ بچہ اپنے والدین سے ہی سب سے پہلے سیکھتا ہے اس لئے والدین کو اپنا نمونہ درست رکھنا چاہیے۔

پھر والدین کو ہدایت دیتےآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی اولاد کی ایسے رنگ میں تربیت کرو کہ یہ تین خوبیاں بطور عادت و خصلت ان میں راسخ ہوجائیں۔

اپنے نبی سے محبت

اہل بیت سے محبت

تلاوت قرآن اور اس سے محبت

پھر فرمایا:

اَعِیْنُوااَوْلَادَکُمْ عَلَی الْبِرِّ

(الجامع الصغیر ابن سیوطی، ابن ماجہ)

کہ نیکی کے کاموں میں اپنے بچوں کی مدد کیا کرو۔

پھر فرمایا:

دُعَاءُ الْوَالِدِ لِوَلَدِ ہٖ کَدُعَاءِ النَّبِیِّ لِاُ مَّتِہٖ

(الجامع الصغیر ابن سیوطی، ابن ماجہ)

کہ باپ کی دُعا اپنے بچے کے حق میں ایسے ہی مقبولیت کا درجہ رکھتی ہے جیسے نبی کی دُعا اپنی امت کے لئے۔

اپنی اولاد کا واجبی احترام کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ

اَکْرِمُوْا اَوْلَادَکُمْ وَاَحْسِنُوْا اَدَبَھُمْ

(ابن ماجہ)

کہ والدین اپنی اولاد کے ساتھ نرمی و ملاطفت اور درگزر کا سلوک کریں۔ ان کا واجبی احترام کریں اور ان کو آداب سکھلائیں۔

یہی ہدایت ابن ماجہ میں ان الفاظ میں بھی ملتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا:

اے لوگو! اپنے بچوں کی عزت کیا کرو کیونکہ ان کی عزت کرنا دوزخ کا پردہ ہے اور ان کے ساتھ مل کر کھانا جہنم سے 

بچاؤکا ذریعہ ہےاللہ تعالٰی ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائیں آمین ثم آمین

https://natiquekizoban.blogspot.com/

 

In the name of God, Most Gracious, Most Merciful

(Al-Imran: 39)

O my Lord! Give me from Your special gift pure children. Surely you are the Hearer of prayers.

Allah Almighty has taught us this best way to ask for children and when we have children

 To keep the children in goodness and piety, teach this prayer:

 Auzany Lord brings them namtk anamt Ashkar Ali and Ali Saleh Tirzah aaml parents and their offspring and aslh Li Fei Moose and Anne from Anne Tibet Brotherhood

(Al-Ahqaf: 16

O my Lord! Help me to thank you for the blessings you have bestowed on me and my parents and to do good deeds that please you and correct my offspring for me. Surely I turn to You, and surely I am of the obedient.

The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: When a child is born, say the adhaan in the right ear and iqaamah in the left ear. This does not cause the disease of "Umm Al-Sabiyan" (in which the child suffers from drought and the child becomes weak. Usually there is a seizure).

(Small University)

That way we can train our child properly from day one

The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said about the call to prayer: Allaah knows best that Shaytaan (Bukhari) says that the call to prayer repels the Shaytaan.

Then the child that is born in the time of the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) should be tahneek.

Then at the age of seven days, two goats are sacrificed by the boy and one goat by the girl. If a boy is born, he should be circumcised.

(Resurrection)

When the child is seven years old, he should be encouraged to pray. Before this, the child should be reminded of the words and prayers of prayers and when he grows up and is able to walk outside, the beloved master Hazrat Muhammad Mustafa (PBUH) has instructed him to protect him from obscenities and evils.

In a hadith of (Abu Dawud)

When a child is seven years old, order him to pray. If he does not pray even after three years of effort, he should be reprimanded, and at the age of ten he should be segregated. Must be entered

Then he said: When your children begin to speak, teach them La ilaha illa Allah; and when the mil teeth fall out, command them to pray.

(Resurrection)

When he took allegiance from women, he also took a vow that she would not kill her children. This means that she will not kill her children spiritually and will train them in the best way and adapt their morals and habits according to Islamic rituals.

The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) even forbade mothers from fasting while they were breastfeeding or pregnant so that their health would be maintained and there would be no adverse effect on the health of the childrin

The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) disliked divorce and khula and called it abghaz al-halal. Because divorce or khula has a very bad effect on the training of children where they are separated.

He instructed the parents to train the new flowers and buds of the nation

The right of the son over his father is to give him a good name, to make him a good abode, and to teach him his favorite manners.

He said: Teach literature to your children because this act of yours is equal to one saa 'of charity daily.

Also, it is narrated from Tirmidhi that the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said,

Calling the parents responsible for the training of the children, the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said:

(Bukhari Book of Funerals)

That every child is born on the nature of Islam (correct nature) but it is his parents who make him a Jew, a Christian or a Magian, that is, the child adopts the pattern of parents. The child learns first from his parents, so parents should keep their pattern right.

Then, instructing the parents, the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: Train your children in such a way that these three virtues become ingrained in them as a habit and characteristic.

Love your prophet

Love Ahlul Bayt

Recitation of the Qur'an and love for it

Then he said:

(Al-Jami 'al-Saghir Ibn Suyuti, Ibn Majah)

Help your children to do good deeds.

Then he said:

Supplication of the father of the child to the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him)

(Al-Jami 'al-Saghir Ibn Suyuti, Ibn Majah)

That a father's prayer has the same popularity for his child as a prophet's prayer for his ummah.

Instructing his children to show due respect, he said:

(Ibn Majah)

That parents should treat their children with kindness and forgiveness. Respect them properly and teac them manners.

The same guidance is found in Ibn Majah in the following words

O people! Honor your children, for honoring them is the veil of Hell, and eating with them is a means of escape from Hell. May Allaah grant us the right understanding. Amen and Amen

https://natiquekizoban.blogspot.com/.


1 تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں