بسم اللہ الرحمٰن الر حیم
آقائے مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں کو چند مفید نصیحتیں
امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ نے اپنی جامع میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک حسن صحیح حدیث نقل کی ہے، جس میں آپ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا کہ آپ نے مجھے مخاطب کرکے ارشاد فرمایا: ’’اے بچے! میں تمہیں کام کی چند باتیں سکھاتا ہوں:

۔ احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ1

یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے احکام بجالاؤ اور اس کے منع کردہ کاموں کو کرنے سے بچوتو اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں تمہارا ہر طرح سے خیال رکھے گا۔

2۔ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ

یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کی حفاظت اور اس کے عائد کردہ حقوق کی ادائیگی کا پورا خیال رکھو تو اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کی اصلاح فرمائے گا اور  ہربرے وقت میں تمہاری تائید ونصرت فرمائے گا 
3۔ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلْ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ

جب تم کچھ مانگنا چاہو تو بس اللہ ہی سے مانگو، اور جب تم مدد طلب کرو تو صرف اللہ ہی سے مدد طلب کرو۔

اس سے مقصود یہ ہے کہ جب تمہیں دنیا وآخرت کے کاموں میں سے کسی کام سے متعلق مدد کی ضرورت ہو تو اس کے لئے تمہیں صرف اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے اپنے ہاتھوں کو پھیلانا چاہیے۔اور خاص طور پر ایسے کاموں کے لئے توصرف اور صرف اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیے جن میں اس کے سوا کوئی بھی تعاون ومدد کرنے کی طاقت وقدرت نہیں رکھتا ۔جیسے کہ بیماری سے شفا اور رزق میں کشادگی کی خواہش وطلب وغیرہ کے مسائل ہیں،کیونکہ ان مسائل کا تعلق ایسے کاموں کے ساتھ ہے جن کو اللہ رب العزّت نے صرف اور صرف اپنی ذات کے ساتھ ہی خاص کررکھا ہے۔

(امام نووی اور امام ہیثمی رحمہما اللہ نے اس سے یہی معنیٰ مراد لیا ہے)۔

4۔ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ

اور اچھی طرح جان لو کہ اگر امّت کے تمام افراد اکٹھے ہو کرتجھے کچھ فائدہ پہنچانا چاہیں تو تجھے صرف اسی چیز کا ہی فائدہ پہنچا سکیں گے جس کو اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے پہلے سے مقدر کر رکھا ہو ۔اور اگر وہ سب لوگ تجھے کسی طرح کا نقصان پہنچانا چاہیں  تو وہ تجھے صرف اسی چیز میں ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے پہلے سے مقدّر کر رکھا ہے۔

5۔، رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتْ الصُّحُفُ (رواہ الترمذی،وقال:حسن صحیح)۔

قلم اٹھا لئے گئے ہیں اور اوراق خشک ہوچکے ہیں۔

لیکن اس سلسلہ میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ’’توکل علی اللہ‘‘ کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ انسان صرف یہ سوچ کر ہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے کہ چونکہ ہر آدمی کا مقدر تو روزِ اوّل سے ہی اللہ تعالیٰ کی جانب سے لکھا جا چکا ہے۔اور اب جبکہ اس میں کسی قسم کی تبدیلی کا بھی کوئی امکان نہیں ہے تو اس صورت میں اس کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارۂ کار نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے سامنے تسلیم ورضا کا پیکر بن جائے اور اپنے حالات کو مادّی اسباب کے ذریعہ درست کرنے کے بجائے صرف اعتماد الہی کی بنیاد پر اپنی ہر قسم کی جدوجہد سے کنارہ کشی اختیارکرلے، بلکہ ’’توکل علی اللہ‘‘ کا مفہوم تو یہ ہے کہ ظاہری ومادی اسباب کو اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل اعتماد وبھروسہ کیا جائے ، کیونکہ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹنی کے مالک سے ارشاد فرمایا تھا: (إعقلها وَتَوَكَّلْ) یعنی پہلے اس کے زانو کو باندھو پھر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کا اظہار کرو‘‘۔(امام ترمذی نے اس حدیث کو روایت کرتے ہوئے حسن کہا ہے)۔

جامع ترمذی کے علاوہ حدیث کی دوسری کتابوں میں مندرجہ ذیل نصیحتوں کا بھی اضافہ ہے:

6۔(تعرَّفْ إلى اللهِ في الرَّخاءِ يَعْرِفْكَ في الشِّدَّة)

یعنی اگر خوش حالی وآسودگی کے ایّام میں تم اللہ تعالیٰ کے حقوق کو ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے بندوں کے حقوق کو بھی پورا کرنے کی پوری پوری کوشش کرتے رہو تو اللہ تعالیٰ تمہاری نجات کی راہیں آسان فرمائے گا جب تم ہر طرف سے بدحالی ودرماندگی میں گھر جاؤ گے ہو۔

 7۔ وَاعْلَمْ أَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ،وَمَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ
اور خوب جان لو کہ جس چیز سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں محروم کردیاہے وہ چیز تمہیں کسی صورت بھی حاصل نہیں ہوسکے گی۔اور اگروہ تمہیں کسی چیز سے بہرہ مند کرنے کا ارادہ کرچکا ہے تو اس چیز کے تمہارے پاس پہنچنے میں کوئی شخص بھی کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنے کی طاقت وہمت نہیں رکھتا۔

   8۔ وَاعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ   

اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت صرف صبروتحمل اور برداشت کے ذریعہ ہی حاصل ہوسکتی ہے‘‘۔

یعنی دشمن ہو یا نفسانی خواہشات وجذبات ،دونوں کا سرکچلنے اور ان پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے تائید الہی کے حصول کا واحد ذریعہ، صبروتحمل اور ثبات وبرداشت ہی ہے۔

9۔ وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ

اور بے شک ہر تنگی کے بعد کشادگی بھی ہے۔

یعنی اس بات کا یقین کرلو کہ اگر مومن مبتلائے رنج والم ہوتا ہےتواس کے بعد اسے مسرّت وشادمانی کا دور دیکھنا بھی ضرور نصیب ہوتا ہے۔

10۔ وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا

اور یقینا ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے۔

یعنی اگر مسلمانوں کو کبھی کوئی تنگی وعسرت کے کھٹن مرحلہ سے گزرنا پڑتا ہے تو اسے اس کے بعد یقیناً سہولت وفراخی کے بھی کئی ایک مراحل میسّر آئیں گے۔

حدیث سے ماخوز چند اہم فوائد

۱۔سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں سے بے پناہ الفت ومحبت کے اظہار کا بیان،اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سواری پر بیٹھانااور ان کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے پیار بھرے انداز میں’’یا غلام‘‘ اے بچے! کہہ کر آواز دینا۔

۲۔بچوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری کی تلقین اور اس کی نافرمانی کے ارتکاب سے بچے رہنے کی تنبیہ کرتے رہنا یقیناًان کو دنیا وآخرت میں سعادت مندی سے بہرہ ور کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔

۳۔اگرکوئی بندہ مومن آسودگی وفراخی،صحت وتندرستی اور تونگری وخوشحالی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق وفرائض کی ادائیگی کا خیال رکھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسے وقت میں نجات کی راہیں کھول دے گا جب وہ ہرطرف سے شدائد ومحن اور مصائب وآلام میں گھِر چکا ہوگا۔

2۔والدین اور اساتذہ ،دونوں کا فرض ہے کہ وہ بچوں کے دلوں میں عقیدۂ توحید کو اس طرح  راسخ ومضبوط کردیں کہ جب بھی ان کے دل میں کسی چیز کی طلب وخواہش پیدا ہو یا ان کو کسی معاملہ میں استعانت ومدد کی طلب ہو تو وہ اس کے لیے صرف اور صرف رب کائنات کے بارگاہ میں اپنے ہاتھوں کو پھیلائیں۔

۵۔بچوں کے دلوں مین عقیدۂ ایمان کو بھی نہایت مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں یہ بات ان کے علم میں لائی جانی چاہیے کہ ایمان بالقدر(یعنی تقدیرپرایمان لانا چاہئے وہ تقدیر انسان کے حق میں اچھی ہو یا بری) ایمان کے ارکان میں سے ایک رکن ہے۔

۔سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادگرامی(وَاعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ( ’’یعنی خوب جان لو کہ اللہ کی تائید ونصرت صبروتحمل کے ساتھ ہی حاصل ہوسکتی ہے،اور ہرتنگی کے بعد کشادگی ہے اور ہرمشکل کے ساتھ آسانی ہے‘‘ کی روشنی میں بچوں کی تربیت ایسے طور پر ہونی چاہیے کہ وہ اپنے ہر کام کے نیک انجام کے  امید وارہوں کیونکہ اس طرح وہ صرف یہی نہیں کہ آنے والے دنوں کے خطرات کا مقابلہ نہایت شجاعت وجوانمردی، قومی وملی جذبوں کے ساتھ کرنے کے قابل ہوسکیں گے بلکہ ان کا وجود امّت  اسلامیہ کے لئے نہایت مفید وکارآمد بھی ثابت 
ہوگا، انشاءاللہ

In the name of God, Most Gracious, Most Merciful
Some useful advice to the children of the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him)
Imam al-Tirmidhi (may Allaah have mercy on him) narrated a beautiful saheeh hadeeth from 'Abdullah ibn' Abbaas (may Allaah be pleased with him) in his Jamaa'ah, in which he says that one day he was riding behind the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) when he addressed me. He said: “O children! Let me teach you a few things about work:

That is, if you obey the commands of God Almighty and refrain from doing the things that He has forbidden, God Almighty will take care of you in every way in this world and in the Hereafter.

That is, if you pay full attention to the protection of the limits set by Allah Almighty and the payment of the rights imposed by Him, then Allah Almighty will correct your deeds and will support and help you in every difficult time.

When you ask for anything, ask Allah, and when you ask for help, ask Allah for help.

This means that when you need help with any of the tasks in this world and in the hereafter, you should reach out to Allah Almighty for that. And especially for such tasks, only and only. One should turn to those in whom no one else has the power to help and support, such as the problems of healing from illness and the desire for abundance in sustenance, etc., because these problems are related to the tasks which God, the Lord of Glory, has made it special only for Himself.

(Imam Nawawi and Imam Haithami, may God have mercy on them, have taken this to mean the same thing).

4. Take these diagnostic uaalm ajtmat Ali ynfauك bsyء Lim ynfauك except Allah Outlook كtbه bsyء tall, willow ajtmaua Ali yzruك bsyء Lim yzruك bsyء tall كtbه except Allah Peace

And know well that if all the people of the ummah come together and want to benefit you, they will be able to benefit you only from what Allah Almighty has predestined for you. If they want to harm you in any way, they can harm you only in that which Allah Almighty has predestined for you.

5. Raising the pen and closing the pages (Narrated by al-Tirmidhi, and said: Hasan Sahih).

The pens have been removed and the pages have dried.

But in this regard, it should be borne in mind that “Tawakkul Ali Allah” does not mean that man should sit hand in hand just thinking that since the destiny of every human being is from the first day, Allah Almighty And now that there is no possibility of any change in it, in that case there is no other option for him but to submit to the destiny of Allah Almighty. Instead of trying to correct his situation by material means, he should withdraw from all his struggles on the basis of divine trust alone. The meaning of "Tawakkul Ali Allah" is to adopt external and material means. At the same time, complete trust and reliance should be placed on the person of God Almighty, because the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said to the owner of a she-camel: Do it. ”(Imam Tirmidhi narrated this hadith and said Hasan).

Apart from Jami 'al-Tirmidhi, other books of hadith also contain the following admonitions:

6- (Introduction to Allah in the mercy of Allah in the heat of the day)
That is, if in the days of prosperity and ease you do your best to fulfill the rights of Allah Almighty as well as the rights of His servants, then Allah Almighty will make your way of salvation easier when you are miserable from all sides. You will go home in despair.

 7. And I know that I did not make a mistake for you, and I did not make a mistake for you, nor did you make a mistake.
And know that what Allah has deprived you of, you will not be able to attain at all. And if He intends to give you something, then no one will be able to reach you. The power of obstruction does not lie.

And know very well that the support and help of Allah Almighty can be obtained only through patience and endurance.

That is, patience and perseverance are the only means of gaining divine support for both the enemy and the desires and emotions of the soul.

And of course there is openness after every hardship.

That is, make sure that if the believer suffers from pain and suffering, then he is bound to see a period of happiness and joy.

And of course, with every difficulty comes ease.

That is, if Muslims ever have to go through a difficult phase of hardship and difficulty, then they will surely have several stages of ease and comfort after that.

Some important benefits derived from hadith

2. The statement of the government of the two worlds expressing the immense love and affection for the children, putting their cousin Abdullah bin Abbas on a ride behind them and lovingly to attract them. O slave, O children! Say and give voice

3. Instructing children to obey and obey Allah Almighty and to keep them away from committing disobedience to Him is surely an important means of bringing them happiness in this world and in the Hereafter.

3. If a believing servant takes care of the fulfillment of the rights and duties of Allah and His servants in comfort and well-being, health and well-being, then Allah will open the way of salvation for him at a time when he is suffering from all sides. And will be surrounded by suffering.

2. It is the duty of both the parents and the teachers to inculcate the doctrine of Tawheed in the hearts of the children in such a way that whenever there is a desire in their heart for something or they need help in any matter. Let them spread their hands for this only and only in the presence of the Lord of the Universe.

2. Faith needs to be established in the hearts of children on very strong foundations. In this regard, it should be brought to their notice that faith in destiny (ie, one should believe in destiny whether that destiny is good or bad for man). One of the members of the faith.

The guidance of the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) is: Children should be trained in such a way that they hope for a good outcome in all their endeavors, because in this way they are not only able to face the dangers of the days to come with great courage and youthfulness. They will be able to do so with national and national sentiments and their existence will prove to be very useful and useful for the Islamic Ummah.
It will happen, God willing


Post a Comment